جان بخشی
معنی
١ - جاں بخش کا اسم کیفیت، معافی، درگزر۔ "صبح کی خصوصیت بڑھی ہوتی ہے کہ فیضان الٰہی گویا از سر نو جاں بخشی کے لیے مستعد ہوتا ہے۔" رجوع کریں: جاں بَخْش ( ١٩٠٦ء، الحقوق و الفرائض، ١٤٩:٣ )
اشتقاق
فارسی زبان میں مرکب توصیفی 'جاں بخش' کے ساتھ 'ی' بطور لاحقۂ کیفیت لگنے سے 'جاں بخشی' بنا۔ اردو میں بطور اسم مستعمل ہے۔ ١٧٧٥ء میں "نوطرز مرصع" میں مستعمل ملتا ہے۔
مثالیں
١ - جاں بخش کا اسم کیفیت، معافی، درگزر۔ "صبح کی خصوصیت بڑھی ہوتی ہے کہ فیضان الٰہی گویا از سر نو جاں بخشی کے لیے مستعد ہوتا ہے۔" رجوع کریں: جاں بَخْش ( ١٩٠٦ء، الحقوق و الفرائض، ١٤٩:٣ )